New Friendship Poetry | Friendship Poetry in Urdu | Bushra Shehzadi

New Friendship Poetry | Friendship Poetry in Urdu | Bushra Shehzadi
New Friendship Poetry | Friendship Poetry in Urdu
New Friendship Poetry | Friendship Poetry in Urdu

صبر ' گریہ سے لاکھ بہتر ہے
خامشی ' چیخ سے بڑی ہے دوست

احبابِ من آج ایک ایسی بندی کا کلام لئے حاضر ہوں جس کی نظمیں اکثر مجھے ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہیں ۔
اور میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ آج مندرجہ ذیل نظمیں پڑھنے اور محسوس کرنے کے بعد آپ تمامی احباب میری اس بات کی تائید کریں گے ۔
بشریٰ خان اس مصنوعی اور حقیقی دونوں دنیاؤں میں مجھے بلاشبہ سب سے زیادہ پیاری ہے۔
ایک ایسی دوست جو ڈھارس ہے۔
بشی میری پیاری تم پر قربان کہ تم میرے زخم چننے والوں کی فہرست میں سب سے آگے کھڑی ہو۔
تمہاری میری محبت کے تلازمے اتنے گہرے اور زیادہ ہیں کہ گنوانا مشکل ہے۔ تم چھاؤں ہو محبت ہو خوشی ہو ڈھارس ہو تسلی ہو۔
میری شہزادی تم جگ جگ جیو ۔خوب مہکو۔سچا سائیں ہمیشہ سرسبز رکھے۔ چادر سلامت رہے۔
یقیناً تمہاری نظمیں  اشعار گلشنِ شعر میں ایک معطر اضافہ ہیں ۔ مجھے تم پر فخر ہے۔
بہت سا پیار 🖤

کس نے روداد غم سنی ہے دوست
شہر کا شہر مطلبی ہے دوست

شب کے بجھتے ہوئے چراغوں کی
کیوں ہواوں سے دوستی ہے دوست

کس طرح کوئی غم چھپاوں میں
ماں تو چہرے کو دیکھتی ہے دوست

آنکھ سے دیکھنے کو نا دیکھو
بس یہی رمز آگہی ہے دوست

ہے لکھا عشق کے صحیفوں میں
ہجر کا رنگ ماتمی ہے دوست

سال گھڑیال سب پیادے ہیں
عمر شطرنج کھیلتی ہے دوست

یہ دعا کر کہ کچھ سہولت ہو
زندگی موت مانگتی ہے دوست

چند آیاتِ وصل کو پڑھ کر
میری وحشت بھی ہنس پڑی ہے دوست

اک پرندے کی آخری خواہش
مجھ سے اک پیڑ نے کہی ہے دوست

روشنی کا سوال کس سے کریں
سب چراغوں میں تیرگی ہے دوست

صبر ، گریہ سے لاکھ بہتر ہے
خامشی ، چیخ سے بڑی ہے دوست

دست الام سے پلائی گئی
میں نے مرضی سے تھوڑی پی ہے دوست

وقت اوقات میں نہیں رہتا
ایک لمحے میں اک صدی ہے دوست

شاعری لاش کا تعفن ہے
نظم سے باس اٹھ رہی ہے دوست

جسم ویران سی حویلی ہے
جس میں اک یاد بس رہی ہے دوست

....
"" یونہی"""

زندگی بھی عجب ہو گئی ہے
یہ دنیا یوں پہلے بیگانی نہ تھی
جو اب ہوگئی
تیرے بن تو سکوں ایک پل بھی نہیں مل رہا
دل سے اس ہجر کا یہ نحوست بھرا غم نہیں ہل رہا
میری دنیا وہ جس سے ہمیشہ مری آشنائی رہی تھی
جس میں ہنستے ہوئے زندگی اتنے سالوں سے جیتی رہی سانس لیتی رہی
وہ ترے ایک عجلت بھرے فیصلے پر فدا ہوگئی ہے
زندگی اس اچانک جدائی کے لائے ہوئے زلزلوں کے ہی ملبے تلے دب گئی ہے
اور میں اس خرابے کے اوپر تجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس طرف آگئی ہوں
جہاں میری آواز مجھ کو سنائی نہیں دے رہی
سبھی کچھ یہاں پیل ییلو  "pale yellow" سا ہے
یوں کہ پھولوں کی رنگت بھی مجھ کو دکھائی نہیں دے رہی
تیرے بن تو یہ دنیا ذرا سی بھی اپنی نہیں لگ رہی ہے
مرے واسطے سب فنا ہو گیا ہے
تجھے علم ہے ڈوپمن(" dopamine")  سیروٹونن    "(serotonin ) "کا بیلنس (balance) بھی بگڑا ہوا ہے
ہاں یعنی مرے ہارمون (hormones)  بھی تیرے ہونے نہ ہونے کا ادراک رکھتے رہے ہیں
بس اک تیرے ہونے نہ ہونے پہ دنیا و دل کا نظامِ یقیں منحصر ہے
تیرے بن میرا اپنی ہی دنیا سے ہر رابطہ منقطع ہے
تیرے بن میرا اپنا بدن میرا دشمن بنا ہے مجھے کاٹتا ہے
تیرے بن زندگانی تو بس رائیگانی کا ہی دوسرا نام ہے
تیرے بن تو خوشی کا بھی مفہوم مجھ کو سمجھ میں نہیں آرہا
تیرے بن رات دن کاٹنا ایک آزار ہے
تیرے بن زیست ساری کی ساری ہی بیکار ہے
تیرے بن کوئی منظر بھی آنکھوں سے ہوتا ہوا دل کی آئینہ گہ تک نہیں جا رہا۔
تیرے بن سانس لینے کی کوشش تو کی ہے، نہیں آ رہا
زندگی تیرے پہلو کی مہکی ہوئی خوشبووں سے معطر ہوا میں گھڑی دو گھڑی جی لئے تھے کبھی
اب مگر سانس لینے کی مشق ستم اک مقدس عبادت سمجھ کر کئے جا رہے ہیں
تیرے بن یہ زمیں مجھ کو دیکھی ہوئی ہی نہیں لگ رہی
مجھ کو لگتا ہے میں ایلینز (aliens)  کے ہی جھرمٹ میں اس زندگی کے بھیانک برے دن اذیت بھرے کرب سے کاٹ کر مر رہی ہوں
کہیں مارس (Mars) پر !!

...

عشق کی معرفت کا سنا؟
عشق  حوا و  آدم کی صورت زمیں پر اتارا گیا
قصہ ہابیل و قابیل کا علم ہے ؟  عشق ہے
ہاں وہ عورت کہ جس نے زمیں کے شکم کو وہ پہلے بدن کا چڑھاوا چڑھایا وہ بھی عشق تھی
عشق موسی کے اعصا سلیمان کے تخت سے منسلک وجد کی منزلوں سے گزرتا رہا
ابن مریم کا کار مسیحائی بھی عشق ہے
جھوٹے نمرود کی آگ میں تپ کے کندن بنا وہ خلیل عشق ہے
عید قربان کی سنتیں تا قیامت عقیدت سے پڑھنے کی ساری وجہ عشق ہے
صبر ایوب بھی گریہ یعقوب بھی عشق ہے
عشق معراج کی خلوتوں سے گزرتا ہوا پاک طیبہ کی اجلی زمیں پر اتارا گیا
تپتے مکہ کی جلتی زمیں پر سلگتا ہوا یا احد یا احد ودر کرتا ہوا سیدی عشق ہے
عشق عثمان ہے  عشق صدیقِ اکبر، عمر اور علی ،عشق ہے
عشق کرب و بلا بس  رضا ہی رضا
عشق معراج ہے
عشق بغداد کی روشنی کا منارہ  جنید، عشق خواجہ معین عشق منصور ہے
عشق سینہ بہ سینہ سلگتی ہوئی آگ کا نام ہے
عشق عرفان ہے نور ہے
اس زمیں آسماں اور زمان و مکاں کی بھی تخلیق سے پیشتر کا صحیفہ پڑھو
جس میں لکھا ہوا ہے
خدا عشق ہے !!

..
" XXY "

یہ بدن بھی خدا کا تجربہ نہیں ،، رمز ہے !
ایکس وائے کی اک سر کشی کا نتیجہ بھگتنا تو ہے

پر کسے ؟؟؟

وہ جو خود ان گناہوں میں شامل نہیں پاک معصوم ہے !!

کب تلک ؟؟

جب تلک آدمی سرخ پوشاک کو کھینچ کر کوئی لذت نہ لے
ایسے لوگوں کو آبادیوں سے پرے چھوڑ آنا بھی اک رسم ہے !!

رسم ہے ؟؟
جنس ہیں، دپ و دق تو نہیں !

جانے کتنے ہی لڑکی نما جسم صدیوں سے ننگے بدن ناچ کر تھک گئے،، گر پڑے !!
ہاں مگر اس ہوس کا شکم نا بھرا
ظلم ہے !!

ظلم ہے ؟

طلم یہ ہے کہ کتنے حسیں گل بدن
عورتوں کے سراپوں کو اپنی پنہ مان کر لٹ چکے
کوئی ان کو بتائے کہ ان عورتوں اور "عورت نماوں" کی عزت نہیں
کچھ نہیں !!

کچھ تو ہے  !!

ہاں جی ہاں کرب ہے !
شوخ رنگوں کے کپڑوں میں لپٹا ہوا اور دھتکار کے درد میں ایک لتھڑا ہوا جسم ہی کرب ہے
یار انسانیت کا دکھاوا بڑا جھوٹ ہے
جھوٹ ہے ؟؟ جھوٹ ہے تو کوئی سچ بھی ہو گا یہاں"!!

ہان جی ہاں بھوک ہے !!
بھوک کی کوکھ سے ہی یہ ساری بدی ساری وحشت جنم لے رہی ہے

بھوک مٹ جاتی ہے ؟؟

ہاں مگر اس سے پہلے ملائک کئی عصمتوں کے اجڑنے کی روداد لکھ کر یہی سوچتے ہیں کہ یہ آدمی بھیڑیا ہے
ایسے روندی ہوئی
ہر اک ناپ کی لاش کا اک بھی دکھ نا سنو !!

نا سنوں  ؟؟ کیا سنوں ؟؟

سنو وہ سنو !!
 ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے ہوئے مخنثوں پر نچھاور کئے جانے والے دو کوڑی کے سکوں کی پھبتی سنو !!
کہہ رہے ہیں کہ یہ آدمی بھیڑیا ہے

...
عید ہے !!

عید ہے ؟ ؟؟ ؟؟؟

عید آ بھی گئی
اس سے بچھڑے ہوئے سال ہو بھی گیا
ننگے پیروں اسی کے سرابوں کے پیچھے ہی بھاگا کئے

کیا ملا؟ کچھ ملا ؟؟

کچھ نہیں !!
کیوں نہیں؟؟
 اس نے تو مڑ کے اتنا کہا بھی نہیں
عید ہے تم کو پیاری سی میٹھی سی اس عید کی ڈھیروں شبھ کامنا

ہاہاہا اپنی بیوی سے ڈرتا ہے نا
بیویاں جسم ہیں،،
 جسم کی لذتوں سے رہائی ملی ہے کسے؟
عشق اور جسم میں فوقیت تو ہمیشہ بدن کو ہی تھی
کیا ہو تم ؟
اک بدن !!
 اک بدن جس کو اس نے محبت کا جھوٹا سٹیکر لگایا  سمے ٹھیک سے کاٹنے کے لئے
کیا ہو تم ؟؟؟
بولتی کیوں نہیں !
کیا ہو تم ؟؟؟

کیا ہوں میں ؟؟
میں تو کچھ بھی نہیں، جو بھی ہے وہ ہی ہے

کون وہ ؟؟

اسکی بیوی

اسکی بیوی ؟؟؟  ہاہاہا  !!!
تو محبت سے بھاگے ہوئے اس بھگوڑے کی اس بزدلی پر کھلے دل سے ہنس قہقہے کچھ لگا اور کہہ
عید کی ڈھیروں شبھ کامنا
ہاہاہا ہاہاہا

....
زندگی المیہ ہے

المیہ ؟ ؟؟

 المیہ جانتے ہو ؟؟

نہیں !

اس طوائف کا دکھ جس نے روٹی کی خاطر بدن بیچ ڈالا مگر صرف گالی ملی

گالی کیا ہے ؟؟

 یار رشتوں کی حرمت کا جھوٹا بھرم گالی ہے
المیہ یہ ہے کہ
گالی سے پیٹ بھرتا نہیں
 غیرتیں صرف بیٹی کی لغزش پہ ہی جاگتی ہیں

اور پھر  ؟ ؟

پھر یہی بیٹیاں قتل ہو جاتی ہیں

قتل کیا ہے بھلا؟؟

قتل ایمان و غیرت سے لبریز مومن کی معراج ہے

اس لئے عام ہے ؟
خاص کیا ہے بھلا ؟

خاص  اس فاحشہ کے بطن سے جنا بے لبادہ بدن ہے
جس کی ترکیب میں جانے کتنے شریفوں کا آبِ نجس مشترک ہے

فاحشہ  !! فاحشہ کون ہے ؟؟

یار دنیا ! جو شہوت کی اندھی طلب ،خواہشوں کی چکا چوند میں ان ہوس کی دکانوں میں رقصاں ہے نا ، بس یہی فاحشہ ہے !
اہل زر دونوں ہاتھوں سے اس پر لٹا کر اشاروں کنایوں میں عریاں بدن قص کا عندیہ دے رہے ہیں اسے
اور یہ قہقہے مارتی مست ہوتی ہوئی ر**ں کی طرح تھرتھراتی ہے اور ۔۔۔۔

اور کیا ؟؟

اور چراغوں میں کچھ روشی نہ رہی "

رونقوں کے جھمیلوں سے کوسوں پرے جھونپڑی میں بیماری سے لڑتا ہوا ماں کا لخت جگر !!
پیٹ سے اٹھ رہی بھوک کی گڑگڑاہٹ سے ڈر کر بڑی آس سے پوچھتا ہے
  "رے ماں! میری بھی عید ہے ؟
...
"سوداگری "" ""

لاش ہے

لاش ؟؟ کتنے کی ہے ؟؟؟

چھ روپے سولہ آنے

چھ روپے سولہ آنے ؟؟؟؟  رعایت تو کر

کیا رعایت کروں ؟

دو روپے کی دو آنکھیں ہیں تازہ ہیں بالکل نئی
سر کچل آنکھیں باہر نکال
اک روپے کا جگر ہے

جگر؟؟
؟؟ ؟؟

ہاں جگر یہ بڑے کام کا ہے
یہ لے چاقو پکڑ

کیا کروں ؟؟؟ کیا کروں یہ بتا !!!

اس کے سینے پہ رکھ وسط میں چیر دے
چیر کر دل نکال

اور یہ پھیپھڑے ؟؟؟

پھیپھڑے !! لا دکھا ،،یہ سڑے پھیپھڑے تو شرابی کبابی کے ہیں
چیل کووں کو دے یا تو کتوں کو ڈال
اور سن یاد رکھ کہ خدا نے کوئی چیز بیکار پیدا نہیں کی

اچھا یہ کل ملا کے ہوئے دو روپے ایک اور ایک دو،
اور باقی کے دو ؟

دو روپے کے دو گردے بھی ہیں
سولہ آنے کا مردے میں کچھ بھی نہیں

کچھ نہیں ؟؟؟
تو میں کاہے کو دوں ؟؟

سولہ آنے تو انسانیت کی ہی قیمت لگائی گئی ہے
 نصف یعنی کہ اٹھنی ہے ایمان کی

آٹھ آنے کا ایمان ہے  آٹھ آنے کی انسانیت ؟؟
تف ہے تف

ہاں مگر تم کو کیا ؟ ہم کو کیا ؟؟

اچھا سن
اک جواں سال عورت کا مردہ بدن چاہئے تازہ ہو

کس لئے؟؟ ؟؟ ؟؟

تو نہیں جانتا مرد کیوں مانگتا ہے بھلا عورتیں ؟؟
زندہ عورت بھی بکتی ہے لیکن دلالی کی قیمت بہت زیادہ ہے
 بول ہے ؟؟؟

ہے مگر وہ جواں تو نہیں ہے ابھی بچی تھی ،،مر گئی !!

خیر ہے کام چل جائے گا
لا ادھر دے مجھے،،  یہ پکڑ چھ روپے سولہ آنے  پکڑ

"چھ روپے سولہ آنے پلس  دو روپے ایکسڑا "

ایکسڑا کس لئے ؟؟؟   ؟؟؟  دین ایمان ہے ؟؟؟  ؟؟؟
چھ روپے سولہ آنے سے دھیلا بھی اوپر نہیں دوں گا میں !!

چل نکل بحث نا کر دو اعضاء اضافی ہیں اس جسم میں
ان چھوئے( زیرو میٹر )
رکھ ادھر اپنی قیمت
یہ مردہ بدن اپنی خلوت میں لا نوچ کھا
اور بدبو کے بھبھکے نکلنے سے پہلے تلک عیش کر !!!..

....
فوج غدار ہے ""

اک طرف جون کی قہر ڈھاتی ہوئی دھوپ ہے
اک طرف ٹھنڈ ہے
ٹھنڈ یعنی کہ ہڈیوں کا گودا جماتی ہوئی ٹھنڈ ہے
دور تک آدمی کا نشاں تک نہیں
برف ہی برف ہے
اک طرف ایسی مائیں ہیں جو لوریوں میں شہیدوں کے قصے سناتے ہوئے اپنے بیٹوں کو یوں پالتی ہی رہیں
جانے کتنی بیاہی ہوئی
(دو دنوں کی بیاہی ہوئی )
دلہنوں نے سہاگوں کی چہرے ہلالی کفن میں سجے دیکھ کر
صبر کا ہاتھ تھاما
اداسی نے بھی خامشی کا سہارا لیا
کتنے بوڑھے بدن اپنے بیٹوں کی یادوں کی بیساکھیوں کے سہارے سفر کاٹتے جا رہے ہیں
کتنے بچے یتیمی کا اعزاز لے کر خوشی سے یہی کہہ رہے ہیں

 "میرے ابا نے باڈر پہ جاں دی ہے"

دکھ بھی اپنی جگہ ہے
اک طرف اپنے پیاروں سے حتمی جدائی کے دکھ کا ہے سناٹا اور
اور دوجی طرف عید کا جشن ہے شور ہے
 اک طرف پھر سے آنے کا وعدہ دلاسہ ہے اور
اور دوجی طرف لاکھ خوشیوں بھرا میل ہے
اک طرف مائیں بیٹوں کی تصویر چھوتے ہوئے رو پڑی ہیں مگر
اس کی دوجی طرف ایک آسودگی سے مزین گھرانہ ہے جس کی حفاظت کی بنیاد میں خون ہے
ہاں شہیدوں کا خوں
اک طرف حق و باطل کی یلغار ہے
آگ ہے خون ہے گولیوں کی ہی بوچھاڑ ہے
تیغ و تلوار ہے
اک طرف ولولوں کی کہانی سناتے ہوئے
نعرہء حق لگاتے ہوئے
سرحدوں کی حفاظت پہ جاں کا خزانہ لٹاتے ہوئے
یہ جواں ہیں
جوانوں کی دوجی طرف عیش کوشی کے پالے ہوئے فلسفی ہیں
فلسفی زہر خندہ دہن سے یہی کہہ رہے ہیں

""" فوج غدار ہے ""

پوچھنا تھا کہ ہم کو شہیدوں کی ماووں سے معافی ملے گی کبھی ؟؟

....
" مقدس آگ کا دوزخ "

ﻃﻠﺐ ﭘﮭﺮ ﭼﯿﺰ ﮨﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﯿﻨﮧ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺍﻧﺪﻟﺲ ﮐﮯ
ﻣﻌﺒﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻞ ﺭﮨﯽ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺪﺱ ﺁﮒ ﮐﯽ ﻟﭙﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﺩ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮐﮯ ﺟﻠﺘﺎ ﮨﮯ
ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﺱ ﺟﮭﻠﺴﺘﯽ آﮒ ﮐﺎ اﯾﻨﺪﮬﻦ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺳﺘﺮس ﻣﯿﮟ آ ﭘﮍﺍ ﺍﮎ ﺟﺴﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
 ﯾﮩﯽ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﻓﻄﺮﺕ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺷﮩﻮﺍﻧﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﻮ ﺩﺑﺎﻧﺎ ﮨﯽ ﺍﺳﻤﺒﮭﻮ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻧﮕﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺍﻟﻔﺘﯿﮟ ﻭﻋﺪﮮ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ
 ﺳﺒﮭﯽ ﺩﻋﻮﮮ
ﺗﻮ ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﺑﺪﻥ ﮐﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺑﭽﺘﯽ ﮨﮯ
ﺑﺪﻥ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﺧﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﻧﺸﮯ ﺳﮯ ﭼﻮﺭ ﮨﻮﮐﺮ ﻟﺰﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺯﺍﺋﻘﻮﮞ ﺳﮯطﺁﺷﻨﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺗﻨﺎ
ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﺁﺧﺮ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﭼﮭﻮﺗﺎ ﺯﺍﺋﻘﮧ بھی ﺧﻮﺩ ﻓﺮﺍﻣﻮﺷﯽ ﮨﯽ ﮐﮯ  ﮔﺪﻟﮯ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻏﺮﻕ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﻃﻠﺐ ﺍﮎ ﺑﮭﻮﮎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺑﮭﻮﮎ ﺟﻮ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﺭﺩﮦ ﺩﺭﻧﺪﻭﮞ ﺑﮭﯿﮍﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺭﺣﻢ ﻓﻄﺮﺕ ﮐﮯ ﺧﺎﺻﮯ ﺳﮯ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﺘﯽﮨﮯ

ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺩﺳﺘﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﺌﮯ ﻟﺬﺕ ﺑﮭﺮﮮ ﺍﮎ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺍپنی طلب ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﺎ ﺩﻭﺯﺥ،،
 ہوس ﮐﯽ ﺑﮭﻮﮎ ،،
 ﺍﭼﮭﮯ ﺳﮯ ﻣﭩﺎ ﻟﮯ ﺗﻮ
ﺍﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﺁﻭﮞ ﮔﯽ
...
""  درندگی کا نشانہ بن کر زندہ بچ جانے والے گلے سڑے جسموں کی فغاں  """

"" PSYCHO """

کوئی پاگل یہیں کچلے ہوئے پھولوں کی قبروں پر یہ نوحہ پڑھ رہی تھی
""  تمھارے بے رحم قاتل نے یہ احساں کیا تم پر کہ تم کو نوچنے کی بعد زندہ ہی نہیں چھوڑا
مگر میں تو نہ زندہ ہوں نہ مردہ ہوں
بدن نوچا ہوا ہے روح بھی گھائل
 اذیت سے تڑپتی ہوں
کہ دن بھی خوف سے لپٹا ہوا مجھ پر اترتا ہے
سرہانے بیٹھ کر ہر رات کے روتی سسکتی ہوں
رگوں میں خوں نہیں ہے زہر قاتل ہے
کہ میرے زخم سب ناسور بنتے جا رہے ہیں
مری خاموش چیخیں میری بنیادیں گرائے جا رہی ہیں
وہ کالی رات کے سائے ، وہ وحشت سے بھرے منظر
مرے اندر کہیں پر چھپ گئے ہیں
مرے ہونٹوں پہ دانتوں کے نشاں، گالوں پہ چانٹوں کی رسیدیں ثبت ہیں اب تک
مری پلکوں پہ آنسو جم گئے ہیں
مرا بھیتر تعفن سے بھرا ہے
 اتنی بدبو ہے کہ اب ہر شخص مجھ سے دور بھاگے جا رہا ہے
کوئی آسیب سا اب تک مرے پیچھے لگا ہے
مجھے ان خون اوڑھے سارے لمحوں کا تواتر یاد ہے اب تک
مرے اعضاء معطل ہیں
کسی ذی شان، گہرے درد کی لہروں کی زد میں ہیں
مجھے اس زہر سے اب اتنی نفرت ہے بیاں جو ہو نہیں سکتی
میں اپنی ادھ گلی سی لاش پر ماتم کناں ہوں
کہیں سینے میں ہی دفنا چکی ہوں
اور اتنے سال اس پر رو چکی ہوں
کہ اب زہنی توازن کھو چکی ہوں ""

بشریٰ شہزادی
🖤



रोने से धैर्य बेहतर है
चिल्लाहट से बड़ा है मौन, मित्र

दुःख की कहानी किसने सुनी, मित्र?
शहर से शहर मतलब दोस्त

रात की मंद रोशनी की
हवाएं क्यों मित्र हैं, मित्र हैं

किसी भी दुःख को कैसे छिपाया जाए
माँ चेहरा देखती है, दोस्त

नग्न आंखों से मत देखो
यही रहस्य है, मित्र

यह प्रेम के शास्त्रों में लिखा है
हज का रंग शोक है, मित्र

साल के मगरमच्छ सभी पैदल होते हैं
उमर शतरंज खेलती है, दोस्त

कुछ राहत के लिए प्रार्थना करें
जीवन मांगता है मृत्यु, मित्र

कुछ श्लोकों का पाठ करके
मेरी डरावनी हंसी भी है दोस्त

एक पक्षी की अंतिम इच्छा
एक पेड़ ने मुझे दोस्त बताया है

तुम किससे प्रकाश मांगते हो?
सभी रोशनी में तैर रहा है, दोस्त

रोने से धैर्य बेहतर है
चिल्लाहट की तुलना में मौन अधिक है, दोस्त

हाथ से लगाया हुआ
मैंने थोड़ी पी ली, मेरे दोस्त

बुशरा राजकुमारी

sabr' giryaa se laakh behtar hai
khamshi' cheekh se barri hai dost

kis ney rudaad gham suni hai dost
shehar ka shehar matlabi hai dost

shab ke bujhaty hue charaghoon ki
kyun ہواوں se dosti hai dost

kis terhan koi gham چھپاؤں mein
maa to chehray ko dekhatii hai dost

aankh se dekhnay ko na dekho
bas yahi ramz aag_hi hai dost

hai likha ishhq ke shifon mein
hijar ka rang maatami hai dost

saal gharyaal sab payaday hain
Umar shatranj khelti hai dost

yeh dua kar ke kuch sahoolat ho
zindagi mout maangti hai dost

chand ayaat wasal ko parh kar
meri wehshat bhi hans pari hai dost


Patience is better than crying
Silence is bigger than screaming, friend

Who has heard the story of grief, friend?
City by city means friend

Of the dim lights of the night
Why the winds are friends, friend

How to hide any grief
Mom looks at the face, friend

Don't look with the naked eye
That's the secret, friend

It is written in the scriptures of love
The color of Hajj is mourning, friend

Year crocodiles are all on foot
Omar plays chess, friend

Pray for some relief
Life demands death, friend

By reciting a few verses
My horror is also laughed at, friend

The last wish of a bird
A tree has told me friend

Who do you ask for light?
There is floating in all the lights, friend

Patience is better than crying
Silence is greater than screaming, friend

Placed by hand
I drank a little, my friend


Post a Comment

0 Comments